اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بغداد میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ عراق پر قبضے کے بعد طے کیے گئے طریقہ کار کے تحت امریکا میں موجود عراقی رقم کا ایک حصہ ہر ماہ نقد ڈالر کی صورت میں عراق کو منتقل کیا جاتا ہے۔
ذریعے کے مطابق امریکی حکومت ماضی میں بھی عراق میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس مالیاتی اختیار کو بطور دباؤ استعمال کرتی رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پروازوں پر پابندی اور بغداد و نجف سمیت عراقی ہوائی اڈوں پر ایرانی پروازوں کی آمد روکنے کے فیصلے کی حمایت کی، تاہم اس کے باوجود امریکا نے عراق کی رقم کی منتقلی روک رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیویارک میں الزیدی کی ٹرمپ سے ملاقات کے دوران عراقی حکومت نے اس معاملے پر ٹرمپ کے عراق و شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے عراق کے فنڈز کی منتقلی کے لیے واشنگٹن کو درخواست بھیجی ہے۔
تاہم باخبر ذریعے نے کہا کہ الزیدی حکومت کی کوششوں کے باوجود عراق کو تاحال اس کی رقم موصول نہیں ہوئی، جس کا براہِ راست اثر ملک میں زرمبادلہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
آپ کا تبصرہ